پہلے بھی خدا نے سر خرو کیا تھا اب بھی سرخروہوں کرے گا،حمزہ شہباز

اسلام آبادمسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں نواز شریف سے ملاقات کے دوران کلثوم نواز کی صحت کے بارے میں پوچھتے رہےلیکن ہمارے پاس انہیں بتانے کو کچھ نہیں تھا۔ لیکن ایک دن  قربانیاں رنگ لائیں گی۔ وقت ایک جیسا نہیں رہتا ۔ 25 جولائی کو نواز شریف عوامی عدالت میں سرخرو ہوں گے۔ نواز شریف چاہتے تو لندن روپوش رہ سکتے تھے عام انتخابات کے حوالے سے تحفظات کے باوجود جاری ہے میں اسفند یار اور بلاول بھی تحفظات کی اظہار کر چکے اگر دھاندلی ہوئی تو سب سے رابطہ کریں گے جیل جیل ہوتی ہے خدا نواز شریف کو صحت دے۔

 نجی ٹی وی  میں دیے گئے انٹر ویو کی تفصیل کے  مطابق حمزہ شہبا زنے کہا ہے کہ نواز شریف سے اٹک قلعے اور اٹک جیل پہلے بھی ملتا رہا ہوں۔ لیکن اڈیالہ جیل کی ملاقات بہت تکلیف دہ رہی۔ اس ملاقات میں وہ بار بار کلثوم نواز کی صحت کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔اور ہمارے پاس انہیں بتانے کے لئے کچھ نہیں تھا مجھے اپنی بہن کو بھی جیل میں مل کر تکلیف ہوئی نواز شریف کو دل کی تکلیف ہے انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو ایک پتلا میٹرس دیا گیا جسے زمین پر بچھا کر سونا پڑا باتھ روم قابل استعمال نہیں تھا انہوں نے کہا کہ نواز شریف میرا لیڈر اور باپ کی طرح ہے میرا ان سے پیار کا رشتہ ہے نواز شریف کو پہلے بھی خدا نے سر خرو کیا تھا آج بھی سرخرو کرے گا۔

۔ 25  جولائی کو قوم نواز شریف کے حق میں فیصلہ دے گی انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے کہا کہ ان کے والد 3 دفعہ ملک کے وزیراعظم رہے اگر انہیں سہولیات میسر نہیں تو ہمیں بھی ضرورت نہیں ہے انہوں نے کہا کہ وقت ایک جیسا نہیں رہتا قربانیاں رنگ لاتی ہیں۔ آج مجھ پر اور میرے والد پر دہشت گردی کا مقدمہ بن گیا۔

 انہوں نے کہا کہ آج پاکستان دوبارہ دھشت گردی کی زد میں آ گیا ہے نواز شریف پاکستان کے لئے واپس آئے ہیں تو مشاورت کی بات نواز شریف کا زاتی ایجنڈا نہیں اگر ان کا زاتی ایجنڈا ہوتا تو واپس نہ آتے انہوں نے کہا کہ ہم تحفظات کے باوجود انتخابات رہے ہیں اگر شفاف انتخابات نہ ہوئے تو پاکستان کے لئے نیک شگون نہیں ہوگا۔

 انتخابات میں تحفظات کا اظہار بلاول بھٹو اور اسفند یار ولی نے بھی کیا ہے اگر دھاندلی نظر آئی تو ان سب سے بات کریں گے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 33 سال آمریت رہی ہمیں ماضی سے سبق سیکھنا چاہئے ہم کسی بھی صورت جمہوریت کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے ہیں۔ لوگوں کو ووٹ ڈالنے دیں جمہوریت کی گاڑی چلنے دیں آئیں ملیں بیٹھیں ہم سب کو بات کرنی چاہئے انہوں نے کہا کہ عدلیہ میں  اعتزاز احسن خود پیچھے بیٹھے تھے وہ لاہو ر آ کر دیکھتے کہ ریلی میں کس طرح عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا۔ جب ہزاروں لوگ سڑکوں پر ہوتے تو کیسے ممکن ہے کہ ایک دم سے ہزاروں کےجھرمٹ سے نکل کر ایئرپورٹ چلے جائیں ہزاروں لوگوں کا نکلنا بھی نواز شریف کا استقبال ہی تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *