وطن سے محبت ، شہید کے ورثاءبھی مرمٹنے کو تیار

 

برفیلے محاذ پر جمے شہدا کے خون کی یاد آج بھی تازا،وطن کی محبت کا جذبہ آج بھی کٹ مرنے کیلئے تیارہے۔ سیاچن دنیا کا بلند ترین محاذ جنگ ،رگوں میں خون جمادینے والی سردی مگرپاک فوج کے جوانوں کا خون کو گرمانے والا جوش و جذبہ،6 سال پہلے گیاری میں عزم اور حوصلے کا نیا باب رقم کیا گیا۔2012میں 7 اپریل کا دن سانحہ بن کر طلوع ہوا۔گیاری سیکٹر میں ناردرن لائٹ انفنٹری کی بٹالین، ہیڈ کوارٹر پر برفانی تودہ آگرہ، پاک فوج کے 140 آفسر اور جوان برف کے تودے تلے دب گئے۔اس المناک حادثے میں لائنس نائیک شرافت الدین شہید نے بھی جام شہادت نوش کر گئے۔لائنس نائیک شہید شرافت الدین کا تعلق ضلع دیامر کی تحصیل چلاس کے نواحی گاوں تھک کوٹ سے تھا، شہید شرافت الدین کے والد نے 1965 کی پاک بھارت جنگ لڑی اور اس کے ایک چچا نے کرگل کی جنگ میں شہادت کا رتبہ حاصل کیا، شہید کے خاندان کا ملک و ملت سے بے پناہ محبت اور شہید شرافت کا بچپن سے پاک فوج میں بھرتی ہونے کا شوق اور لگاﺅ کی وجہ سے وہ 2000کی دہائی میں پاک فوج میں بھرتی ہوئے، اور ملک کے مختلف حصوں اور محاذوں میں دفاع وطن کیلئے خدمات انجام دیتے رہے۔یکم مارچ 2012 کو جب شہید شرافت الدین کی گلگت بونجی فوجی ہیڈ کوارٹرسے سیاچن گیاری سیکٹر پوسٹنگ ہوئی تو ان دنوں شہید شرافت الدین بیمار تھے، جب پوسٹنگ کی اطلاع ملی تو شہید شرافت الدین بستر پر تھے، فورا اٹھ کھڑے ہوئے اور گھر والوں سے رخصتی لیکر سیاچن کی طرف رخت سفر باندھ لیا۔پوسٹنگ کے ٹھیک ایک ماہ کچھ دن بعد سیاچن گیاری سیکٹر میں فرائض کی انجام دہی کے دوران برفانی تودہ گرنے کے باعث وطن پر قربان ہوگئے اور جام شہادت نوش کر گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *